جنوبی کوریا نے امریکی پول نیوز کا افتتاح کیا
کیا آمریکا نے ایران پر طبی آلات اور دواؤں پر لگائی پابندی؟ جنوبی کوریا نے کھولی امریکہ کی پول۔
ایران کی وزارت صحت کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ سوئفٹ کے مسئلے اور پابندیوں کے بہانے کی وجہ سے بینک آف جنوبی کوریا نے کورونا وائرس ٹیسٹ کٹس کی خریداری کو ناممکن بنا دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت صحت کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کیانوش جہانگیر نے کہا کہ جنوبی کوریا سے کورونا ٹیسٹ کٹس کی خریداری کے بارے میں کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کی پول کھل گئی ہے کہ ایران پر طبی آلات اور منشیات پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
کیانوش جہاں پور نے کہا کہ بینک آف جنوبی کوریا نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ پابندی کی وجہ سے اس طرح کی خریداری ممکن نہیں ہے۔
#جنوبی_کوریا_نے_کہا_ایران_پر_آمریکا_کی_طرف_سے_پابندیوں_کی_وجہ_سے_طبی_آلات_خریداری_ممکن_نہیں_ہے
تحریر ۔محمد نوید مدنی۔ہفتہ 27 مارچ 2020۔
گھروں کو ۔۔۔
اداروں کو ۔۔۔
مدرسوں کو۔۔۔
جامعات کو۔۔۔
عمارتوں کو۔۔۔
مساجد کو۔۔۔
بنانے پے وقت لگتا ہے۔۔۔۔۔مگر ویران ہونے پے کوئی وقت نہیں لگتا۔۔۔
دل خون کے آنسو روتا ہے
دل کی کیفیت زیر و زبر ہے
مساجد کو آباد کرنے والے مسجد کے دروازے پر کھڑے نمازیوں کو واپس بھیج رہے ہیں ۔۔۔
مساجد کے دروازوں پر پولیس کھڑی نمازیوں کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دے رہی۔۔۔
گویا سجدوں سے روکا جا رہا ہے
زمیں میں سب سے اعلی جگہ سے روکا جا رہا ہے۔۔۔
کل ایک عمر رسیدہ بزرگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد رکھی تھی جب مسجد سے روکا گیا تو روتے ہوئے مسجد کے دروازے کو چوم کے آنکھوں سے سیلاب بہاتے واپس لوٹے تو بے بسی سے دل سے اک دعا نکلی
اے اللہ ۔۔۔ہم پر رحم فرما۔۔۔۔
ہم بے بس نا تواں ہیں
تو مالک ہے تو قادر ہے۔۔۔۔آپنی قدرت کے نظارے دیکھا۔۔۔
ہم تیری بارگاہ میں عاجزی کرتے ہیں۔۔۔
ایک ہلکا سا جھونکے کو ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔
انسان کی اوقات ہی کیا ہے۔۔۔۔یقینا انسان کمزور ہے۔۔۔
آج بعض لوگ کہ رہے ہیں
"ہمیں کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے"۔۔۔
لیکن اس جملے سے تکبر کی بو محسوس ہوتی ہے۔۔۔۔جبکہ وقت انکساری ہے۔۔۔
درست جملہ کیا ہونا چاہیے ؟
ہمیں کرونا سے ڈرنا نہیں اور لڑنا بھی نہیں۔۔۔۔بلکے اس کے خالق رب قدیر سے ڈرنا ہے۔۔۔۔
کیونکہ اس کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔۔۔
شفا اسکے دست قدرت میں ہے۔
نا ہم مچھر سے لڑ سکتے ہیں
نا ہی نظر نا آنے والے کرونا سے۔۔۔۔
وقت ہے ہم آپنی جبیں اور مصلے کے درمیان فاصلے کو ختم کریں سجدہ ریز ہو کر عاجزی کریں انکساری کریں اور عافیت مانگیں۔۔۔
اللہ ہم پر کرم فرما۔۔
تیری محبوب کی امت بہت پریشان ہے رحم رحم رحم۔
.
سلامتی آپ اور خدا کے رحم و کرم سے
السلامُ علیکمُ ورحمتُۂ اللؔۂ و برکاتُۂ
ایک دردمند دل رکھنے والا ...اور احسان واحساس کرنے والا انسان کبھی مُفلس نہی ہوتا،احسان وہی کرسکتا ہے جسے اللؔۂ استعطاعت دیتاہےاوراحساس کرنے والا جب اُسکی مخلُوق کے دُکھ درد بانٹتا، اور انسانی زندگی میں آسانئیاں فراہم کرنے کا باعث بنتا ہے تو اللؔۂ رب کریم کی رحمت اسُکی زندگی میں خیر و برکت،خوُشی وخوُشحالی اورراحت وسکُوُن عطاء کر دیتی ہے...
اللؔۂ سُبحان وتعالئ ہمیں وہ تمام نعمتیں عطاءفرمائے
جسمیں ہمارے لئے...صحت و تندرُستی،خیروبرکت خوُشی و خوُشحالی، راحت وسکون میسرآ سکے ...اور جسمیں ہمارے لئے بہتری اور بھلائی ہو۔
آمین، ثُمہ آمین۔
In the same way, we offer our heartfelt devotion to our Imam Mosque and the Mosan Mosque.
جس طرح ہم ڈاکٹرز اور پولیس والوں کی محنت پر ان کے شکر گزار ہیں
اسی طرح ہم اپنے امام مسجد اور موذن مسجد کو بھی دل کی گہرائیوں سے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں
یاد رکھیے گا وبا کے زمانے میں جب شہروں کے شہر لاک ڈاون ہیں اس وقت بھی مسجد کے ملا نے مسجد کے ساتھ، دین کے ساتھ غداری اور کسی قسم کی کمزوری و سستی کا مظاہرہ نہیں کیا، جب پورا ملک بند ہے اس وقت بھی مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں مسلسل بلند ہورہی ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے کترارہے ہیں اس وقت بھی یہ مسجد کا ملا امامت و اذان سے ایک اینچ پیچھے نہیں ہٹا۔ یہ آج بھی مصلیٰ پر موجود ہے۔ یہ آج سنگین حالات میں بھی منبر رسول کی بھاری امانت سے منہ نہیں موڑ رہا۔ یہ آج بھی ہر طرح کی طعنہ زنی سن کر دیوانہ وار اپنے مشن سے وابستہ چٹان کی مانند کھڑا ہے۔جس طرح ہم ڈاکٹرز اور پولیس والوں کی محنت پر ان کے شکر گزار ہیں اور ان حالات میں کام کرنے پر انہیں سلوٹ پیش کررہے ہیں۔اسی طرح ہم اپنے امام مسجد اور موذن مسجد کو بھی دل کی گہرائیوں سے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں کہ یہ آج بھی مسجد سے منسلک ہیں۔ یہ آج بھی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کررہا ہے۔ مجھے اپنے شیخ سلیم اللہ خان رحمة اللہ علیہ کے وہ الفاظ یاد آگئے حضرت فرماتے تھے کہ یہ ملائیت ہم نے مجبوری میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اختیار کی ہے اور ہمیں اپنے ملا ہونے پر فخر ہے۔۔۔۔
افسوس ہوا کہ جب سے کرونا وائرس آیا
اسلام و علیکم امید کرتا ہوں آپ سب خیریت سے ہونگے۔۔
میں نے آج تک کبھی کوئی تحریر نہیں لکھی۔۔۔
آج لکھ رہا ہوں۔۔۔
اس تحریر کو لکھنے کا مقصد کسی کو بھی غلط نظریہ سے دیکھنا نہیں ہے۔۔۔
لیکن بڑے افسوس ہوا کہ جب سے کرونا وائرس آیا خاص کر پاکستان میں آزاد کشمیر میں تب سے لوگ نئی نئی باتیں بناتے ھیں۔کچھ دنوں پہلے کی بات ہے۔۔ایک افواہ پھیلائی گئی ۔۔۔
قرآن مجید سے بال نکال کر پانی میں ڈھال کر پینے سے کرونا وائرس نہیں ہوتا۔۔۔کچھ لوگ کہتے تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔کی پلک مبارک کا بال ہے۔۔۔۔۔۔استغِرُاللہ۔۔۔
ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔۔قرآن مجید سے بال نکلے اس میں کوئی شک نہیں۔۔کیوں کہ وہ تلاوت کرتے ہوئے ہمارے اپنے ہی بال تھے۔۔۔۔
پھر کل رات کو 4 بجے۔۔۔ایک اور افواہ پھیل گئی۔۔کہ ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو پیدا ہوتے کہتا ہے کہ سب کوڑا کہوا پیو تو کرونا وائرس سے بچ جاؤ گے۔۔۔۔
لیکن ہم مسلمانوں کا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ھم یقین کر لیتے ہیں۔۔۔یہ وقت خدا سے معافی مانگنے کا ہے۔۔۔یہ وبا ہمارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔۔
جب بھی بےحیائی عام ہو جائے۔۔عورتیں بغیر دوپٹے کے باہر نکلیں۔۔زنا عام ہو جائے۔۔۔وبا نہ آے تو کیا آئے۔۔۔
آخر میں سب سے التجا ہے۔خدا سے معافی مانگیں۔۔۔
اسلام کی وجہ سے ہم آج تک زندہ ہیں۔۔۔
لیکن اس وبا سے ہم اتنے ڈر گئے کہ ہم اسلام کو چھوڑتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔۔ہمیں اپنی جان سے پیارا اسلام ہے۔۔جب ہم اسلام کی حفاظت کریں گے۔۔تو ہماری حفاظت خدا کرے گا ۔۔۔
اگر کسی کی دل شکنی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔
اللہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس وبا سے محفوظ رکھے۔۔
آمین۔۔۔
Comments
Post a Comment