تم جانتے ہو کہ میں تیرے سوا کچھ بھی نہیں
پھر بھی تیرا مجھ سے کوئی تعلق،واسطہ کچھ بھی نہیں؟
اک رات جو تیری دہلیز پر کاٹی ہم نے
اندھیروں میں پھوٹ کر روئے مگر مِلا کچھ بھی نہیں
ڈھونڈنے نکلے جو روزگار تو واپس پلٹ گئے
محبت کے سوا ہم نے تو کِیا کچھ بھی نہیں
آپ سے کیا لڑنا محبت تو ہم نے کی تھی؟
آپ جائے صاحب آپ سے گِلا کچھ بھی نہیں
وہ بانٹ رہے تھے خیرات زمانے بھر کو
پھیلایا ہم نے جو دامن تو ملا کچھ بھی نہیں
خود ہی لکھ کر موت قلم توڑ دیا عاقِب
قسمت کی لکیروں میں لکھا کچھ بھی نہیں
Comments
Post a Comment