احادیثِ مبارکہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے احکامات

احادیثِ مبارکہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے احکامات

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صدقہ مال کو کم نہیں ہونے دیتا (خواہ آمدنی بڑھ جائے یا برکت بڑھ جائے یا ثواب بڑھتا رہے)۔‘‘ (مسلم)
٭ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’خیرات کرنے میں جلدی کیا کرو۔‘‘
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے آدم کے بیٹے! تُو نیک کام میں خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
٭ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنی حیات میں ایک درہم خرچ کرنا مرتے وقت سو درہم خیرات کرنے سے افضل ہے۔‘‘ (ابوداؤد)
٭ حضرت اسماء بنت ِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ (خوب) خرچ کیا کر (اللہ کی راہ میں) اور شمار نہ کر یعنی گنتی نہ کیا کر (اگر ایسا کرو گی) تو اللہ بھی تجھ پر شمار کرے گا اور محفوظ کر کے نہ رکھ (اگر ایسا کرے گی) تو اللہ تعالیٰ تجھ پر بھی محفوظ کر کے رکھے گا (یعنی کم عطا کرے گا)، خرچ کر جتنا بھی تجھ سے ہو سکے۔ (کنز العمال)
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص ایک کھجور کے برابر پاک کمائی سے خرچ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو داہنے ہاتھ میں لیتا ہے پھر اس کو بڑھاتا ہے جیسا کہ تم سے کوئی اپنے بچھڑے کو پا لیتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
٭ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنے مال و دولت کو زکوٰۃ کے ذریعے بچاؤ اور اپنی بیماریوں کا علاج صدقے کے ذریعے کرو۔‘‘ (طبرانی۔ بیہقی)
٭ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بُری موت سے بچاتا ہے۔‘‘ (ترمذی)
٭ ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا جب تک کہ حساب کا فیصلہ نہ ہو۔ 
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ روزانہ صبح کے وقت دو فرشتے اُترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے ’’اے اللہ! خرچ کرنے والوں کو بدل عطا فرما۔‘‘ دوسرا دعا کرتا ہے ’’اے اللہ! روک کے رکھنے والوں کا مال برباد کر۔‘‘ (متفق علیہ۔ مشکوٰۃ المصابیح)
٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو اس لیے کہ بلا صدقہ کو نہیں پھاند سکتی۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
٭ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ ستر بلاؤں کو دور کرتا ہے جن میں کم سے کم درجہ جزام کی اور برص کی بیماری ہے۔ (کنز العمال)
٭ حدیث شریف میں ہے کہ اپنے تفکرات اور غموں کو صدقہ سے دور کیا کرو اس سے اللہ تعالیٰ تم سے ضرر پہنچانے والی چیزوں کو بھی دور کرے گا اور تمہاری دشمن پر مدد کرے گا۔ ( کنز العمال)
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو دور کرتا ہے اور بُری موت کو ہٹاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو بے شک مصیبتیں صدقہ کونقصان نہیں پہنچا سکتیں (یعنی صدقہ بلاؤں سے انسان کے لیے ڈھال ہے)۔‘‘ 
حدیث ِ مبارکہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
’’اے آدم کے بیٹے! تُو ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر تو اس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لیے بُرا ہے اور بقدرِ کفایت روکنے پر ملامت نہیں۔‘‘ (مسلم، مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ میں نے مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سلام پھیرا اور تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر نہایت عجلت کے ساتھ لوگوں کے کندھوں پر سے گزرتے ہوئے ازواجِ مطہرات کے گھروں میں سے ایک کے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس طرح جلدی تشریف لے جانے سے تشویش پیدا ہوئی کہ نا معلوم کیا بات پیش آگئی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم واپس تشریف لائے تو لوگوں کی حیرت کو محسوس کیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سونے کا ایک ٹکڑا یاد آ گیا تھا جو گھر میں رہ گیا تھا، مجھے یہ بات گراں گزری کہ (موت آ جائے اور وہ رہ جائے اور میدانِ حشر میں اس کی جواب دہی اور حساب ہو) مجھے روک لیا جائے اس لیے اس کو جلدی خیرات کر دینے کے لیے لے آیا ہوں۔‘‘ (بخاری۔ مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیماری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس چھ سات اشرفیاں آئیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ان کو جلدی سے خیرات کر دو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیماری کی وجہ سے مجھے ان کو خیرات کرنے کی مہلت نہ ملی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کچھ دیر بعد دریافت فرمایا ’’وہ اشرفیاں تقسیم کر دیں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیماری نے بالکل مہلت نہ دی۔‘‘ فرمایا ’’اُٹھا کر لاؤ۔‘‘ ان کو لے کر ہاتھ پر رکھا اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا کیا گمان ہے اگر وہ اس حال میں اللہ سے ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرانی کا اثر تھا۔ میں سمجھی طبیعت ناساز ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ کے چہرہ مبارک پر کچھ گرانی ہے کیا طبیعت خراب ہے؟ فرمایا سات دینار رات آگئے تھے وہ بستر کے کونے پر پڑے ہیں اب تک خرچ نہیں ہوئے۔‘‘ (احیاء العلوم)
اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکامات کے مطابق اپنی اور اپنے اہل وعیال کی ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا عذاب کا موجب ہے اور اللہ کی راہ میںبے ریا خرچ کرنا اللہ کی رضا کا موجب اور زکوٰۃِ حقیقی ہے۔

Comments