*یہ تصویر دیکھ کر، عورت مارچ یاد آ گیا:*
کرونا سے پہلے آزادی مارچ کے نام طوفانِ بدتمیزی برپا کرنے والی اور عورت کے نام کو داغدار کرنے کی ناپاک کوشش کرنے والی غلیظ مخلوق اب کرونا کی وباء پھیلتے ہی ایسے غائب ھو گئیں، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔
ھماری مسلم بہنوں کے اسلامی اور عزّتدار تشخص پر قدغن لگانے کی کوشش کرنے والیاں تو بھاگ گئیں لیکن ھماری اسلامی بہنیں اب گھروں میں مقید بےبس و نادار عورتوں کو گھر گھر جا کر خوارک اور اشیائے ضروریہ پہنچا رہی ھیں۔۔۔
یہ ھیں اس امت مسلمہ اور اس پاک وطن کی بیٹیاں جنھیں اسلامی تعلیمات کے عین مطابق جینا بھی پسند ھے اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق معاشرے میں عورت جنس کی بھلائی کیلیے شرعی و فلاحی کام کرنا بھی پسند ھے۔۔۔
یہ ہیں ہماری اصل پہچان، یہ ھیں ھمارا اصل اسلامی ورثہ۔ مسلمان خواتین بہنیں اور بیٹیاں جو لاک ڈاؤن جیسی اس مشکل کی گھڑی میں راشن گھر گھر جا کر بانٹ رہی ہیں. اور خواتین کے درد کو محسوس کر رہی ھیں۔۔۔
انہیں علم ھے کہ آج کی مسلمان عورت کا مسئلہ بےحیائی پر مبنی آذادی نہیں، بلکہ عزت کی روٹی اور جان و مال و عزت کا تحفظ ھے۔ لہذا قوم کے تمام بیٹوں سے التماس ھے کہ نکاح کیجیے اور ایسی ہی نیک سیرت خواتین کو عزت کے ساتھ اپنے گھر کی ملکہ بنائیے۔۔۔
گلی کے کتوں کی طرح گھومنے والی آزادی کے نام پر بےحیائی چاھنے والی کو ہرگز ہرگز ہرگز نکاح میں مت لائیے بھلے ظاہری طور پر جتنی مرضی خوبصورت ھوں۔ خوبصورت کی بجائے خوب سیرت کو فوقیت دیجیے۔۔۔
بعید نہیں کہ الله اسی خاتون کو آپکے سامنے دنیا کی حسین ترین عورت بنا کر پیش کرے۔ اور آخرت کے انعام الگ سے مل جائیں گے۔ ان شاءالله عزوجل۔ لہذا اپنا پسندیدگی کا معیار اعلیٰ اور ارفع اوصاف پر قائم رکھیے۔۔۔
🇵🇰 میں پاکستان ہوں 🇵🇰
Comments
Post a Comment