*" مردوں کیلئے خوبصورت تحفہ "*
جس طرح بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے اسی طرح صفائی اور کپڑوں کی درست ترتیب مردوں کا پیدائشی حق ہے ۔۔۔ گھر ہو یا دفترخواتین بھی ،، مرتب ،، حضرات کو ہی پسند کرتی ہیں ۔ لیبر ورک ہے ، جاب یا کاروباری سلسلہ
آ ئیے ان چیزوں پر فوکس کرتے ہیں جو بالکل بے توجہی کا شکار ہیں ۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں adopt کرنے سے personality building اور personal grooming میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔۔
1 ۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں ایک بار ہیئر کٹ لازماً کروائیں ۔۔ داڑھی ہے تو خط بھی بےحد ضروری ہے ۔ گال پر آ ئے بے ترتیب موٹے بال تھریڈنگ سے نکلوا لیجئے اسطرح خط پورا ہفتہ کشیدہ ہی رہتا ہے ۔۔
2 ۔۔۔۔۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونل پرابلمز کی وجہ سے کان کی لوؤں پر گھنا رواں بلکہ موٹے بال ظاہر ہونے لگتے ہیں انہیں بھی دھاگے سے نکلوا دیجئے ورنہ شخصیت کا تاثر خراب بیٹھتا ہے ۔
3 ۔۔۔۔۔۔ بھنوؤں میں اِکّا دُکّا بال لمبے ہو جاتے ہیں وہ بھی قینچی سے برابر کروا لیجئے ۔ مونچھیں تو ترشواتے ہی ہیں ناک کے بال بھی چھوٹی قینچی سے ترش لیجئے ۔۔۔
4 ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جمعہ کے جمعہ تراش کر سنت بھی پوری کیجئے ۔ پیروں کی ایڑیوں اور ناخنوں کے گرد ڈیڈ اسکن ( چنڈیاں اور مردہ کھال ) بھی کٹر سے کاٹ دیجئے ۔۔ یہ عمل صحت و صفائی کے ساتھ شخصی تاثر میں بھی اضافہ کا باعث ہے ۔۔
5 ۔۔۔۔۔۔۔ عموماً دیکھا گیا ہے مرد زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں نہا کر فارغ ہو جاتے ہیں ۔۔۔ جناب اس میں ایک منٹ کا اضافہ اور کر لیجئے ۔۔۔ بالوں کو شیمپو کرنے کے دوران کانوں کے پیچھے اور کان کی سلوٹوں کروٹوں اور ڈیزائن میں اسفنج یا انگلیاں اچھی طرح گھما لیجئے ۔۔۔۔ ان تہوں میں اکثر میل رہ جاتی ۔۔۔ جو بہت بدنما معلوم ہوتی ہے ۔۔۔
6 ۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے توند لٹکنے لگتی ہے پیٹ اٹھا کر وہاں بھی صابن کا اسفنج پھرائیے اور پانی بہائیے ۔۔۔ ناف کے گڑھے کو صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ شدیدبدبو دینے لگتی ہے اور کئی جلدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے ۔
7 ۔۔۔۔ نہانے کے فوراً بعد کاٹن بڈ سے کان کے دونوں سوراخ صاف کیجیے ۔۔ ایک قطرہ سرسوں یا زیتون کا تیل ناف میں ڈالئے ۔۔۔ بہت سے امراض سے حفاظت ملتی ہے ۔
8 ۔۔۔۔۔ پیروں کے تلووں اور انگوٹھے کے ناخنوں پر بھی یہی تیل لگائیے سر درد نہیں ہوتا اور نظر کی کمزوری بھی نہیں ہونے پاتی ۔۔۔
9 ۔۔۔۔۔۔۔باہر کے جوتے ہمیشہ پالش شدہ اور صاف کر کے پہنئے ۔ گھر کی چپلیں تو بیگم دھو ہی دیتی ہیں ۔
10 ۔۔۔۔۔۔۔اور خدارا پاؤں گھسیٹ کر اور ڈھیلے ڈھالے تھکے ہوئے گدھے کے انداز میں کبھی مت چلیے ۔۔۔ کسی بھی رشتے سے منسلک خاتون باپ بھائی یا شوہر کا یہ انداز برداشت نہیں کرتی ۔۔۔ کوشش کر کے ہمیشہ سیاہ مشکی گھوڑے کی طرح چست و چالاک نظر آ ئیے بھلے گھر میں بیڈ پر آ رام کا وقت بڑھا دیجئے ۔۔۔
11 ۔۔۔۔۔۔ ہاف پینٹ اور شاٹس پہن کر باہر نہ نکل جایا کیجئے کئی خواتین خفیف ہوتی ہیں اور مذہب نے بے شک آ پ کو دوپٹے کی پابندی سے آ زاد رکھا ہے لیکن تھوڑی سا پابند بھی کیا ہے ۔
12 ۔۔۔۔۔ پینٹ کو کولہے کی ہڈی تک پہننا بند کر دیجئے یہی گمان ہوتا ہے ابھی گر جائے گی ۔ ناف کے نیچے پینٹ کی انتہائی حد ہونی چاہئیے ۔۔۔
13 ۔۔۔۔۔ ہمیشہ جوتے ، موزے ، ٹائی وغیرہ لباس سے میچ کر کے پہنیے ۔۔۔ کیونکہ یہ آ پکی ضروری نہیں آ رائشی اشیاء ہیں اور انہیں پٹے کی طرح لٹکانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ یہ شخصیت ابھارنے کی اسیسریز ہیں ۔
14 ۔۔۔۔ اگر سیگریٹ نوشی کرتے ہیں ۔ سگار ، پائپ یا حقہ پیتے ہیں تو اس میں اپنا ایک (کمفرٹ زون ) خاص اسٹائل بنائیے ۔۔۔ جاہلوں کی طرح سُوٹے مت لگائیے ۔( اگرچہ سیگریٹ نوشی صحت کے لیئے مضر ہے ۔ )
15 ۔۔۔۔۔ آ فس یا ورکنگ پلیس پر جاتے وقت کسی عمدہ برانڈ کا ہلکا پرفیوم اسپرے کیجئے ۔۔۔ اور کوشش کیجئے کہ آ پکی آ مد کا سندیسہ یا پہچان آ پ کا برانڈ دے ۔ ہم اپنے ابا اور بھائیوں کی کسی جگہ موجودگی انکی خوشبو سے کر لیتے تھے ۔۔۔ اور بنیان بھی اسی رچی خوشبو سے الگ الگ کرتے تھے ۔
16 ۔۔۔۔ اپنے بولنے کے لہجے پر غور فرمائیے ۔۔۔ جھٹکے مار مار کر یا بات کو لٹکا کر تو گفتگو نہیں کرتے ؟ اگر ایسا ہے تو کوشش کر کے لہجہ قابو میں لے آ ئیے ۔۔۔
17 ۔۔۔۔۔۔ مردانہ شخصیت کے وقار میں لہجے کی گھمبھیرتا سے کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔۔
پبلک میں یا گھر میں سرِ عام ناک سے رینٹ نہ نکالیے ۔۔۔ نہ ہی تھوکتے چھینکتے پھریئے ۔۔۔ بولنے کے دوران جوش میں تھوک نہ اڑائیے ۔۔۔
۔۔۔۔ جب دانتوں پر برش کرتے ہیں ہلکا سا زبان پر بھی برش گھمائیے اور ہو سکے تو 2 مہینے کے اندر برش ضرور تبدیل کر لیں ۔۔۔۔
18 ۔۔۔۔ کھانا کھانے کے دوران چپ چپ پر قابو پائیے ۔۔ اور کھانے کے بعد بے سُرا جاہلانہ ڈکار لینے سے پرہیز کیجئے ۔۔۔ ڈکار تہذیب سے بھی لیا جا سکتا ہے ۔۔۔
19 ۔۔۔۔۔ خواتین کو تاڑ کر ہراساں کرنے سے پرہیز کیجئے ۔۔۔ آ پ کو حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔۔۔
بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجئے کئی طرح کے بھرم بن جاتے ہیں ۔۔
20 ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچ کر آ ئینہ دیکھیے کہاں کہاں کمی ہے دور کر لیجئے ۔۔
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
Comments
Post a Comment