Urud Gahzal | دوست نہیں دوست سے بھی زیادہ کہا تھا مجھ کو

دوست نہیں دوست سے بھی زیادہ کہا تھا مجھ کو
پھر بھی مجھے وہ بھول گئی اس بات کا غم ہے
آتی نہیں نیند اس کی یاد میں رات بھر
وہ سو گئی سکوں سے اس بات کا غم ہے
سالوں کیے کوشش جسے نہ بھول سکے ہم
ایک پل میں بھول گئی اس بات کا غم ہے
رابطے منقطع نہ کیے سوال نہ دیے جواب
کیوں چھوڑا مجھے اس طرح اس بات کا غم ہے
جس نے نہ پوچھا حال بھی وہی پوچھتا ہے عاقِب 
کیوں آنکھیں ہیں نم تمہاری کس بات کا غم ہے

Comments