کس کو خبر ہے کہ کن حالات میں جی رہا ہوں میں۔
یوں تو دریا بہ رہا ہے پاس میرے اور پانی چرا کر پی رہا ہوں میں
عجیب کیفیت ہے کہ وہ میرے ہو کر بھی بات نہیں کرتے
کس کو سناؤ الفاظ، بس! لبو کو سی رہا ہوں میں
مجھ جیسے شخص کے زندہ رہنے یا مرنے سے کیا کسی کو
آخری سانس بچی ہے اور زہر پی رہا ہوں میں
کیا کیا سوچتا تھا تاروں کو چاند سے جدا دیکھ کر
آج اندھیری رات ہے ، کیسے؟ جی رہا ہوں میں
Comments
Post a Comment