آہستہ آہستہ بیماریوں میں ڈھل رہا ہوں میں
کرو مجھ پر بھی نظر کرم کہ مر رہا ہوں میں
تھام لو میرا ہاتھ اور لے جاؤ ساۓ تلے
تیرے عشق کی آگ میں تنہا جل رہا ہوں میں
تجھے کھونے کے ڈر سے گزرتی نہیں راتیں
وقت رک سا گیا ہے کیسے چل رہا ہوں میں
سوچتا ہوں کہ شاید وہ چاہنے لگے ہے مجھے
جس قدر ان سے محبت کر رہا ہوں میں
ڈر لگنے لگا ہے مجھ کو کہی مرہی نہ جاؤ پہلے
یوں تیزدار کانٹوں پر کیسے چل رہا ہوں میں
اک بار ہاتھ میرا بس تھام لو نہ عاقِب
رکھ کر ہاتھوں میں ان کے سر کیسے مر رہا ہوں میں
Comments
Post a Comment