میری آنکھوں میں نہیں تو میری پلکوں پہ رکھ دو
ان کی یادیں لائے ہو؟ لے آؤ! میرے دل میں رکھ دو
اب وہ آۓ ہیں! اجالا تو ممکن جناب۔۔۔۔۔
ان چراغوں کو بجا کر کسی کونے میں رکھ دو
کیا خبر کس وقت وہ چلے آئے یہاں؟۔۔۔۔۔
پھولوں کو اٹھا کر ان کے رستے میں رکھ دو
دہلیز پہ میرے دل کی جب وہ رکھے گے قدم
ان گلاب جیسے پاؤں کو میرے سینے پہ رکھ دو
وہ اندھیروں میں بھی مجھ کو پہچان لے گا عاقِب
بس ہاتھ اٹھا کر ان کا میری دھڑکن پہ رکھ دو
Comments
Post a Comment