تیز آندھی میں اڑتی جا رہی تھی جونپھڑی میری
تیری یاد میں مشغول تھی طوفان میں بھی
امید تھی کہ اس طوفان کے بعد آؤ گی ضرور
دیدار کیلئے نہ سہی لاش اٹھانے ہی سہی
وہاں بھی چور چور ہوا حوصلہ ہمارا
تجھ میں نہیں تو خامی ہم میں ہی سہی
اس آخری گھڑی میں کوئی تو ہوتا ہمارے ساتھ
تم نہیں تو موت ہی سہی
Comments
Post a Comment