Urud Gahzal | میرے پاس بیٹھو کچھ تو بولو

میرے پاس بیٹھو کچھ تو بولو
دریا دل میں جو دفن ہیں وہ راز تو کولو
کیا انہیں یہی دفن رہنے دو گے
اپنے دل یوں ہی زخم ہی رہنے دو گے
اپنے سبھی لفظوں کو تسبیی میں پرو لو
میرے پاس بیٹھو کچھ تو بولوسناہے بہت شکوہ ہے بہت گلے ہیں
بہت زخم ہیں جو ملے ہو مجھ سے
کئ راتیں ہیں جو کٹ گئ ہیں بنا قرب کے میرے
کئ خوشیاں ہیں جو لُٹ گئ نہ ہونے سے میرے
چلو آج اُن سبھی دوکھوں کا حساب کولو
کیااتنا اجنبی ہوں کہ کچھ بول نہیں سکتی
دکھ اور درد اور اپنے لب کھول نہیں سکتی
زندگی کی اس کتاب کہ کچھ پنے موڑ نہیں سکتی
اپنی اس گہری خاموشی کو توڑ نہیں سکتی
یا اتنی دور آگئ ہو کہ راہیں موڑ نہیں سکتی
چلو میں غلط تھاباغی تھا
اپنے ہر فتنہ پہ فیصلے پہ راضی تھا
مگر اب لوٹا ہوں تو معاف کر دو
مجھ پہ بس اک احسان کر دو
اتنا سا انصاف کر دو
اپنے کچھ غم میرےنام کردو
اب تو جذبات کا دریا کھولو
میرے کندھے پہ سر رکھ کر جی بھر کہ رولو
میرے پاس بیٹھو کچھ تو بولومیرے پاس بیٹھو کچھ تو بولو
از قلم سونیا ریاض

Comments