تیری عاشقی میں ہم نے کیا کیا نہیں کیا
تیرے ہر خواب کو ہم نے حقیقت سا کردیا۔
پوچھتے ہیں وجہ ہم سے، ان سے کیا کہوں
تیرے عشق نے ہم کو پاگل سا کر دیا۔
گزرتی نہیں اب تو تنہائیوں میں راتیں
تیرے عشق نے میرے دل کو غموں سے بھر دیا۔
تیرے سَر کا دوپٹہ،وہ تیری غعنی کا ستارا
تیری آنکھوں کے کاجل نے دیوانہ سا کردیا۔
تیرے چہرے کی معصومیت،وہ تیرے حسن کی خوشبو
اس ویران دل کو تم نے آباد کر دیا۔
سوچتا ہوں کہ لکھوں تو کیا لکھوں عاقِب
خدا نے بنا کہ تجھ کو کمال کر دیا۔
Comments
Post a Comment