Urud Gahzal | تمہیں مجھ پر دسترس ہے پھر بھی تم میری کیوں نہیں ہوتی

تمہیں مجھ پر دسترس ہے پھر بھی تم میری کیوں نہیں ہوتی۔
ہم تو پورے کے پورے تمہارے ہے تم آدھی بھی نہیں ہوتی۔
تمہیں دیکھنے کے بعد آنکھوں میں خوشی تو ہوتی ہی نیند نہیں ہوتی۔
تمہیں یاد کرتے رہنا میری عادت ہے بن گئی۔
تمہیں بھول جانے کی ہم سے کوشش بھی نہیں ہوتی۔
حُسن میں دیکھے تو حوروں سے بھی حسِین ہو۔
تمہیں دیکھنے کی خواہش میری کم نہیں ہوتی۔
سَر سے دوپٹہ گِرے، سورج ڈوبے، شام ڈھلے بس بات یہ ہے عاقِب
ان کی ذلفیں بکھر جائے اگر میرے شہر میں سحر نہیں ہوتی۔

Comments